ایک مرتبہ احمد جو کہ آگ کا مالک تھا، وہ ایک سڑک پر سے گزر رہا تھا کہ اسے ایک لڑکا نظر آیا جو بوڑھے لوگوں کو سڑک پار کروا رہا تھا
اس لڑکے کا نام عدیل تھا۔ احمد نے اس لڑکے کو اپنے پاس بلایا اور اس سے پوچھا۔ "بیٹا کیا تمہیں دوسروں کی مدد کرنا اچھا لگتا ہے؟" عدیل نے جواب دیا" انکل مجھے خوشی ہوتی ہے۔"
یہ سن کر احمد کو خوشی ہوئی اور اسے اپنے گھر لے گیا۔ احمد نے عدیل سے پوچھا کہ " اگر تمہیں اس دنیا کی مدد کرنے کے لیے سوپر پاور مل جائے تو تم کیا کروگے؟
عدیل نے جواب دیا" اگر مجھے پاور مل جائے تو میں پوری دنیا کی پوری مدد کروں گا چاہے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے"
احمد کو یہ سن کر اچھا لگا اور اسے اپنا بیج دے دیا اور کہا" اب تم اس دنیا کے محافظ اور تم ایک سوپر ہیرو ہو۔عدیل حیران بھی ہوا اور خوش بھی۔
احمد نے اسے پاورز کے بارے میں بتایا اور نصیحت کی کہ" بیٹا یہ ایک سیکرٹ ہے کسی کو پتہ نہیں لگنا چاہیے کہ اس سوٹ کے پیچھے تم ہو۔ اب جاؤ اور دنیا کی مدد کرو۔"
عدیل وہاں سے چلا جاتا ہے۔ اس طرح ہمیں اپنا پہلا سوپر ہیرو مل جاتا ہے۔
اگلے دن کی ہی بات ہے کہ علی ایک سنسان علاقے میں سے گزر رہا تھا۔ تو اس نے دیکھا کہ ایک لڑکا تین لڑکوں سے لڑائی کر رہا ہے۔ علی کچھ دیر وہاں کھڑا ہوتا ہے اور ان کی لڑائی بڑے شوق سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ پھر اچانک وہ یہ دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے کہ ایک لڑکا تین لڑکوں پر بھاری پڑ رہا ہے۔ لڑائی ختم ہونے کے بعد وہ اس لڑکے کے پاس جاتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے" آخر تمہارے لڑنے کی وجہ کیا ہے؟"
تو وہ لڑکا جس کا نام راحیل تھا اس نے جواب دیا " یہ تین لڑکے مجھے روزانہ پریشان کرتے تھے لیکن آج تو حد ہی ہوگئی انہوں نے میرے ساتھ بدتمیزی کی تو مجھے غصہ آگیا اور میں نے نہیں مارا۔"
علی نے کہا " وہ تین تھے اور تم ایک پھر بھی تم ان سے لڑنے کیوں چلے گئے؟"
راحیل نے جواب دیا " سامنے جتنے بھی لڑکے ہو ارادہ پکا ہونا چاہیے کہ آپ انہیں مار سکتے ہیں۔ پھر آپ کے سامنے چاہے 3 ہو یا 30 آپ انہیں آرام سے دھول چٹا سکتے ہیں۔"
علی کو یہ سن کر حیرانی بھی ہوئی اور خوشی بھی کہ اسے اپنا وارث مل گیا۔ اسے اس جیسا ہی بہادر انسان چاہیے تھا۔ علی راحیل کو اپنے گھر لے جاتا ہے اور اسے اپنا بیج دیتا ہے۔
راحیل کو خوشی ہوتی ہے کہ وہ اس دنیا کا محافظ بنے گا۔ علی راحیل کو پاورز استعمال کرنا سکھاتا ہے۔ پھر اسے نصیحت کرتا ہے کہ اس پاور سے دوسروں کی مدد کرنا اور غلط استعمال نہ کرنا اور پھر اسے جانے دیتا ہے۔
اس طرح ہمیں ہمارا دوسرا ہیرو بھی مل جاتا ہے۔
ہمارے دو ہیروز جن کی طاقت آگ اور پانی تھی وہ دو تو سامنے آگئے تھے لیکن ابھی دو ہیروز کی انٹری باقی ہے۔ عدیل نے اپنا نام فائرمین رکھ لیا اور راحیل نے اپنا نام واٹر مین رکھ لیا۔ لیکن ابھی تک یہ دونوں ایک دوسرے سے ناواقف تھے۔ اگلے دن عثمان پل پر سے گزر رہا تھا۔ ادھر ایک خاتون اپنے بچے کو ٹرالی پر سیر کرا رہی تھی جب وہ نیچے جانے لگیں تو ان کے ہاتھ سے ٹرالی چھوٹ گئی اور ان کا بچہ تیزی سے نیچے کی طرف جانے لگا ۔وہاں ایک لڑکا تھا جس کا نام شرجیل تھا۔ جب اس نے یہ دیکھا تو فورا اس ٹرالی کے پیچھے بھاگا اور ٹرالی سے بھی تیز بھاگ کر بچے کی جان بچا لی۔
عثمان اس کی رفتار دیکھ کر حیران ہو گیا۔ عثمان نے شرجیل کو اپنے پاس بلایا اور اس کی تعریف کی شرجیل بولا کوئی بات نہیں یہ تو میرا فرض تھا۔ عثمان نے کہا شاباش بیٹا اس دنیا کو تم جیسے ہیروز کی ضرورت ہے چلو میرے ساتھ۔عثمان شرجیل کو اپنے گھر لے گیا اور اسے اپنا بیج دے دیا۔ شرجیل حیران اور خوش ہوا۔ عثمان نے شرجیل کو پاورز کا استعمال سکھایا اور اسے بھی نصیحت کی کہ اسے راز رکھنا۔ برا استعمال مت کرنا وغیرہ۔
اب رہ گیا تھا صرف ایک جو بہت طاقتور تھا۔ آگ پانی اور ہوا کے ہیروز تو آ گئے تھے مگر اب زمین رہ گئی تھی۔

0 Comments