ریچھوں نے بلی کو دیکھا تو کہا۔" اے بلی! تو یہاں کیا کر رہی ہے؟ تجھے پتا نہیں کہ یہ اب ہمارا علاقہ ہے؟" بلّی نے کہا کہ "مجھے پتا ہے۔ میں نے اپنی قوم کو کہا کہ ریچھوں کی غلامی کر لو۔ لیکن وہ نہیں مانے اور مجھے زخمی کردیا۔ اب وہ اس جنگل کے اس حصے میں گئے ہیں جو جنت کی طرح خوبصورت ہے ۔ ریچھ لالچ میں آ گئے اور کہا کہ "ہم سب کو تم وہاں لے چلو۔ ہم تمہارا بدلا بھی لیں گے اور تمہارے زخموں پر مرہم بھی لگائیں گے۔" بلّی نے کہا "ٹھیک ہے" ریچھ نے بلی کو اپنی کمر پر بٹھایا اور اس کے راستے پر چل پڑے۔ وہ چلتے چلتے ایسی جگہ پر آ گئے جہاں بہت بڑی دلدل تھی۔ ریچھ دیکھتے ہی دیکھتے دلدل میں دھنس گئے۔ بلی اس کی کمر سے اتر گئی۔ وہ چیختے رہے کہ بچاؤ بچاؤ۔ اتنے میں سب بندر اور بلیاں اردگرد جمع ہو گئیں۔ اتنے میں ریچھ رونے لگے اور گڑگڑانے لگے۔ بلیوں اور بندروں کو ان پر ترس آ گیا۔ انہوں نے درختوں کی مضبوط شاخیں توڑ کر دلدل میں پھینک دیں۔ریچھ ان کو پکڑ کر باہر نکل آئے اور انھوں نے ان دونوں کا شکریہ ادا کیا۔ پھر وہ سب پورے جنگل میں ایک ساتھ خوشی خوشی رہنے لگے اور آپس میں دوست بن گئے ۔ باقی سب جانوروں نے بھی ایک دوسرے سے دوستی کر لی۔ پھر سب خوش خوش پوری زندگی گزارنے لگے۔
اگر آپ کو میری یہ کہانی پسند آئی ہو تو کمنٹ میں بتائیں اور مجھے سپورٹ کرنا مت بھولیں اور اس ویب سائٹ پر آتے رہیے اور میں آپ کے لئے نئ کہانیاں لکھتا رہوں گا۔۔۔
شکریہ۔۔

0 Comments