راحیل : کیا کہا؟ چلا گیا؟ وہ پاگل ہوگیا ہے کیا ؟
شرجیل : مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ وہ غصے میں ہمارے اور ملک کے خلاف نہ کھڑا ہو جائے۔ ہم تینوں مل کر بھی اسے روک نہیں پائیں گے۔ وہ ہم سے زیادہ خطرناک ہے ۔
عدیل : نہیں! ایسا نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ جتنا مرضی ظلم ہو جائے وہ نہ ہمارے خلاف ہوگا اور نہ ہی ملک کے۔ بس دعا کرو کہ جہاں بھی رہے خوش رہے حفاظت تو وہ اپنی خود کر سکتا ہے ۔
راحیل : صحیح کہا۔ اب تو بس دعا ہی کرسکتے ہیں۔ اب ملک کی ذمہ داری صرف ہمارے اوپر ہے۔
شرجیل : hmmm
(غنی اڑتا ہوا پہاڑوں پر آ جاتا ہے۔ وہاں اسے ایک خوبصورت درختوں والا پہاڑ نظر آتا ہے۔ تو وہ ادھر چلا جاتا ہے۔ اس پہاڑی پر جا کر وہ بیٹھ جاتا ہے۔ کچھ دیر بعد وہاں ایک لڑکا آ جاتا ہے۔ جس کا نام الف ہوتا ہے ۔)
الف : سٹونر! میرا ہیرو! مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ تم میرے سامنے ہو۔ پلیز میرے ساتھ ایک تصویر بنا لو ۔
(غنی یہ سن کر نارمل ہوجاتا ہے )
الف : کیا تم بھی میری طرح انسان ہو۔ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ ہیروز انسان ہوتے ہیں۔
غنی : سب ہیروز انسان ہوتے ہیں ۔
(غنی دیکھتا ہے کہ الف کے پاس چھوٹا موبائل ہے۔ یہ دیکھ کر مسکراتا ہے اور واپس سٹونر بن جاتا ہے اور کہتا ہے ۔)
غنی : کھینچ لو تصویر۔
الف : شکریہ۔
(الف تصویر کھینچتا ہے اور خوش ہو جاتا ہے ۔)
الف : لیکن تم یہاں اکیلے کیا کر رہے ہو؟
غنی : پہلے تم بتاؤ کہ تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟
الف : میں دو سالوں سے یہاں رہ رہا ہوں۔ قریب ہی میرا گھر ہے اور میں اکیلا رہتا ہوں۔
غنی : اکیلے اس پہاڑی پہ؟ تم زندہ کیسے ہو ؟
الف : دو سال پہلے میرے والدین کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس کے اگلے دن ہی میرے چاچا چاچی نے مجھ پر ظلم شروع کر دیئے۔ مجھ سے برداشت نہیں ہوا اور میں گھر سے بھاگ کر یہاں آ گیا۔ یہاں میں نے یہ گھر دیکھا اور اندر آیا تو ایک بزرگ کھانس رہے تھے۔ میں نے دو دن ان کی خوب خدمت کی۔ انہوں نے مجھے یہاں رہنے کے بارے میں بتایا۔ کھانے پینے کے بارے میں بتایا۔ اور پھر مجھے دعائیں دیتے ہوئے انتقال کرگئے۔ ان کی دعاؤں کی وجہ سے میں یہاں پر بہت خوش ہوں ۔
غنی : اچھا تو اس کا مطلب یہاں زندہ رہنے کے لیے ہر چیز ہے ۔
الف : ہاں! دنیاداری اور انٹرنیٹ سے دور یہاں پر میں آرام سے زندگی بسر کر رہا ہوں۔ ہفتے میں ایک بار شہر جاتا ہوں اور ایک ہوٹل میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھتا ہوں تو پتہ چل جاتا ہے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ ہر وقت تم چاروں ہیروز کا ذکر ہوتا تھا ۔
غنی ! ہاں! صحیح کہہ رہے ہو تم۔ پہلے ہر کوئی تعریف کرتا تھا۔ لیکن اب!

0 Comments