(غنی موقع پر پہنچ جاتا ہے۔)
سٹونر : سب لوگ پیچھے ہٹ جائیں۔
(غنی اپنی طاقت سے ٹرک کو پل کے نیچے سے نکال دیتا ہے۔ لوگ خوش ہو کر تالیاں بجاتے ہیں۔)
اچانک پورے شہر میں خطرے کے سائرن بجنے لگتے ہیں۔
ٹی وی رپورٹر : بریکنگ نیوز! ایک دیوہیکل روبوٹ شہر میں تباہی مچا رہا ہے۔ کئی عمارتیں نقصان کا شکار ہو چکی ہیں۔
(چاروں ہیروز فوراً موقع پر پہنچ جاتے ہیں۔)
فائرمین : یہ روبوٹ کہاں سے آیا؟
واٹرمین : پہلے اسے روکتے ہیں!
(چاروں روبوٹ سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں لیکن روبوٹ بہت طاقتور ہوتا ہے۔)
روبوٹ ایک کے بعد ایک عمارت کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔
سٹونر : اگر اسے ابھی نہ روکا گیا تو پورا شہر ختم ہو جائے گا۔
(غنی ایک خالی ہوٹل کی طرف دیکھتا ہے۔)
سٹونر : سب پیچھے ہٹ جاؤ!
(وہ اپنی پوری طاقت استعمال کرتا ہے۔ زمین کانپنے لگتی ہے اور ہوٹل روبوٹ پر آ گرتا ہے۔)
دھڑاااام!!!
(روبوٹ تباہ ہو جاتا ہے۔)
لوگ خوشی سے نعرے لگانے لگتے ہیں۔
لیکن اسی دوران روبوٹ کے ملبے کے پیچھے ایک آدمی بھاگنے لگتا ہے۔
وائنڈ مین : ارے! وہ کون ہے؟
(شرجیل ہوا کے زور دار جھونکے سے اسے گرا دیتا ہے۔)
فائرمین : تم کون ہو؟
آدمی : ہاہاہا! میں پاگل سائنسدان ہوں۔ یہ روبوٹ میں نے بنایا تھا۔
واٹرمین : تو یہ ساری تباہی تمہاری وجہ سے ہوئی ہے؟
سائنسدان : اور اگلی بار اس سے بھی زیادہ ہوگی!
سٹونر : اگلی بار کا موقع نہیں ملے گا۔
(چاروں ہیروز اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں۔)
پولیس آفیسر : آپ لوگوں نے ایک بہت خطرناک مجرم پکڑا ہے۔ اب یہ سیدھا جیل جائے گا۔
سائنسدان : تم نے مجھے روک تو لیا ہے ہیروز، لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں!
(پولیس اسے ہتھکڑیاں لگا کر لے جاتی ہے۔)
دوسری طرف ہوٹل کا مالک اپنی تباہ شدہ عمارت کو دیکھ کر غصے میں کھڑا ہوتا ہے۔
مالک : اس نقصان کا حساب ضرور لیا جائے گا۔
(اسی رات وہ سٹونر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیتا ہے۔)

0 Comments