(سائنسدان اور اس کا شاگرد ایک خفیہ گودام میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں سینکڑوں روبوٹس قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔)
سائنسدان : واہ! یہی وہ دن ہے جس کا میں انتظار کر رہا تھا۔
شاگرد : ماسٹر! حکم دیں، حملہ شروع کر دیا جائے؟
سائنسدان : ہاں! آج پورے پاکستان کو معلوم ہو جائے گا کہ پاگل سائنسدان واپس آ گیا ہے۔
(شاگرد ایک بڑا بٹن دباتا ہے۔)
"ACTIVATING ROBOT ARMY..."
(تمام روبوٹس کی آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں۔)
روبوٹس : DESTROY... DESTROY... DESTROY...
سائنسدان : جاؤ! ہر بڑے شہر میں تباہی پھیلا دو!
(روبوٹس مختلف سمتوں میں روانہ ہو جاتے ہیں۔ چند گھنٹوں میں پورے ملک میں افراتفری پھیل جاتی ہے۔)
ٹی وی اینکر : بریکنگ نیوز! سینکڑوں خطرناک روبوٹس ملک کے مختلف علاقوں میں تباہی مچا رہے ہیں۔ فوج، پولیس اور ریسکیو ادارے مصروفِ عمل ہیں۔
(خبر سنتے ہی عدیل، راحیل اور شرجیل ہیرو بن کر میدان میں پہنچ جاتے ہیں۔)
عدیل : یہ اتنے سارے روبوٹس کہاں سے آ گئے؟
راحیل : بات کچھ زیادہ خطرناک لگ رہی ہے۔
شرجیل : اور سب سے بری بات... غنی ہمارے ساتھ نہیں ہے۔
(تینوں کئی گھنٹوں تک روبوٹس سے لڑتے رہتے ہیں لیکن روبوٹس کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔)
عدیل : اس طرح نہیں ہوگا۔ ہمیں غنی کی ضرورت ہے۔
راحیل : لیکن وہ تو چلا گیا ہے۔
شرجیل : پہلے اسے واپس لانے کی کوشش کرتے ہیں۔
(اسی دوران ان کے وکیل ان کے پاس آ جاتے ہیں۔)
وکیل : اگر سٹونر پر سے پابندی ہٹ جائے تو شاید وہ واپس آ جائے۔
عدیل : پھر دیر کس بات کی؟ جس شخص نے مقدمہ کیا تھا اسے ڈھونڈو۔ ہمیں ابھی اس سے بات کرنی ہوگی۔

0 Comments