"Hamary Super Heroes" S-02 Ep-02


(اگلے دن وہ ٹی وی دیکھتا ہے تو سب میڈیا یہی بات کر رہا ہوتا ہے کہ سٹونر جہاں بھی ہو جلد عدالت میں پیش ہوں ۔ غنی یہ سن کر حیران رہ جاتا ہے۔ اتنے میں اس کے سب گھر والے بھی آ جاتے ہیں ۔)

عدیل : تو تمہیں پتہ چل گیا کہ تمہارا بلاوا آیا ہے۔ ہم بھی تمہیں یہی بتانے آئے تھے کہ جاکر کورٹ کچہری کا چکر لگا کر آؤ ۔

غنی : جاتا ہوں۔

امی : ناشتہ کرلو پہلے۔ 

غنی : نہیں میں جا رہا ہوں ۔

(غنی سٹونر بنتا ہے اور عدالت میں پہنچ جاتا ہے ۔)

عدالت کا منظر :-

(عدالت کے باہر لوگوں کا رش لگا ہوا ہے۔ لوگ سٹونر کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔ غنی عدالت میں پہنچتا ہے اور کاروائی شروع ہو جاتی ہے۔)

جج : کارروائی شروع کی جائے۔

وکیل : جی جناب! میرا موکل جو کہ اس عمارت کا مالک ہے جس عمارت کو ہیرو نے جان بوجھ کر اپنے ہاتھوں کی طاقت سے توڑا۔ یہ عمارت کروڑوں کی تھی جناب۔ اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟

غنی: جج صاحب! اس روبوٹ نے بہت سی عمارتیں توڑی ہیں۔ میں نے اگر اس روبوٹ کو مارنے کے لئے ایک عمارت تباہ کردی تو کیا ہو گیا ؟

وکیل : یعنی کے آپ مانتے ہیں کہ عمارت آپ نے جان بوجھ کر توڑی ہے۔ 

غنی : جی ہاں میں مانتا ہوں۔ صرف روبوٹ کو مارنے کی خاطر۔

مالک : صرف میری عمارت ہی کیوں ہیرو؟ اور وہ بھی اتنی بڑی عمارت جو کہ ایک ہوٹل تھا۔ وہ تو شکر ہے کہ اس میں کوئی انسان نہیں تھا۔ ورنہ جانی نقصان کے بھی تم ذمہ دار ہوتے ۔

جج : اب آپ ہیرو سے کیا چاہتے ہیں ؟

مالک : جج صاحب! میری عمارت روبوٹ بھی توڑ سکتا تھا۔ اس لئے میں پیسے نہیں مانگوں گا اور نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ ہیرو کو جیل میں ڈالا جائے۔ اس کے علاوہ کوئی جائز سزا آپ دے سکتے ہیں۔

جج : کروڑوں کے ہوٹل کو تباہ کرنے پر یہ عدالت سپر ہیرو سٹونر کو BAN کرتی ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ سٹونر ملک پاکستان سے دشمنی نہیں کرے گا اور اس سزاوپابندی کو قبول کرے گا۔ یہ عدالت یہیں پر ختم ہوتی ہے ۔ the case is over.

(غنی کچھ بھی بولے بغیر وہاں سے چلا جاتا ہے اور گھر آ کر خوب روتا ہے۔ اس کی امی اس کے کمرے میں آتی ہیں۔)

امی : بیٹا ہمیں فیصلے کا پتہ چل گیا۔ تو رو مت ہیروز روتے نہیں ہیں ۔

غنی : میں ہیرو نہیں ہوں ۔ تھا ۔ ایک چھوٹی سی غلطی پر مجھ پر BAN لگا دیا گیا ۔

 امی : بیٹا غصہ مت کرو۔ تمہارے بھائی دنیا کو بچانے کے لیے ہیں ابھی۔ اور ویسے بھی جب انہیں تمہاری ضرورت ہوگی جب تمہیں UNBAN کر دیں گے۔

غنی : اب میری ضرورت پڑی بھی تو بھی میں بچانے نہیں آؤنگا۔ جا رہا ہوں میں یہاں سے بہت دور۔ یہ گھر ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر ۔

(غنی سٹونر بن کے اڑ جاتا ہے اور پہاڑوں کی طرف رخ کرکے اپنی تیز رفتار کے ساتھ امی کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ امی آوازیں دیتی رہ جاتی ہیں۔)

(تینوں بھائی گھر آتے ہیں تو سب پریشان گھر والوں کو دیکھ کر پوچھتے ہیں )

عدیل : کیا ہوا سب کو؟ اگر غنی کی وجہ سے پریشان ہو تو اب کوئی فائدہ نہیں  مانا اس کے ساتھ غلط ہوا ہے لیکن اب افسوس نہیں کر سکتے ۔

امی : وہ غصے میں گھر سے نکلا ہے اور کہہ کر گیا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے گھر چھوڑ کر جارہا ہے اور کبھی واپس نہیں آئے گا۔



 

Post a Comment

0 Comments