ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل کے دو حصے تھے۔ ایک حصے میں بندروں اور بلیوں کا راج تھا۔ جبکہ دوسرے جنگل میں ریچھوں کا راج تھا۔ بندروں اور بلّیوں کے جانوروں کا دوسرے حصے میں جانا منع تھا۔ اور اسی طرح دوسری طرف والوں پر بھی پابندی تھی۔ ایک دفعہ ریچھوں کے دل میں آیا کہ کیوں نہ پورے جنگل پر قبضہ کیا جائے۔ پھر کیا تھا انہوں نے حملہ کر دیا اور بندروں اور بلیوں کو ان کے علاقے سے نکال دیا۔ سب بلیاں اور بندر جنگل میں آوارہ پھرنے لگے۔ ایک بندر سے اپنے دوستوں کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی۔ اس نے یہ بات شیر کو بتانے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنا اگروہ چپکے سے چھوڑ کر شیر کے پاس بھاگا۔ شیر نے ساری بات سنی اور کہا "وہ جنگل ابھی بھی تمہارا ہے۔ میں تمھاری مدد کروں گا"
شیر خود ریچھوں کے پاس گیا اور ان سے بات کی۔ ریچھ بڑے سمجھ دار تھے۔ انہوں نے شیر سے کہا "جاؤ پہلے جا کر اپنے بال کٹواؤ۔ ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔ ہم تمہاری کوئی بات نہیں سنیں گے۔" شیر گیا اور اپنے بال کاٹ کر آ گیا۔ انہوں نے پھر کہا کہ "ہمیں تمہارے دانتوں سے بھی ڈر لگتا ہے جاؤ دانت کٹواکر آؤ۔" شیر گیا اور اپنے دانت چھوٹے کرواکر آگیا۔ پھر جب وہ ان کے پاس آیا تو ریچھوں نے پھر کہا۔ "جاؤ اپنے ناخن بھی کٹواؤ۔" شیر نے ناخن بھی کٹوا دیے۔ پھر جب وہ ان کے پاس گیا تو ریچھوں نے کہا۔ "ہاں! اب ٹھیک ہے۔ اب ہمیں تم سے ڈر نہیں لگ رہا۔" شیر نے کہا "چلو پھر بندروں اور بلیوں کا حصہ ان کے حوالے کر دو۔" ریچھوں نے صاف انکار کیا۔ شیر کو غصہ آ گیا اور بولا "میں سب کو مار ڈالوں گا۔ ریچھ بولا" کیسے مارو گے ہمیں؟ نہ ہی تمہارے پاس ناخن ہیں اور نہ ہی دانت۔" شیر شرمندہ ہوگیا۔ پھر انہوں نے شیر پر حملہ کردیا اور شیر کو جان سے مار ڈالا۔ جب بندر کو پتہ چلا تو اسے بہت افسوس ہوا۔ بلیوں سے بھی ایک بلی کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ مجھے زخمی کرکے ان کے علاقے میں ڈال دو۔ میں وہاں جاکر کوئی نہ کوئی ترکیب نکالوں گی۔ بلیاں پہلے ہی بہت پریشان تھیں۔ اور پھر بلی نے زخمی کرنے کا کہہ دیا۔ بلیوں نے منع کردیا تو اس بلی نے منتیں کیں۔ اس نے کہا کہ اگر تم لوگ آزادی چاہتے ہو تو مجھے مارو اور زخمی کرکے ان کی طرف پھینک دو ۔بلیاں مان گئیں اور اسے زخمی کر کے ریچھوں کے علاقے میں پھینک دیا۔ پھر کیا ہوا؟ آگے پڑھنے کے لئے اگلی قسط کا انتظار کریں۔
![]() |

0 Comments