"Hamary Super Heroes" S-01 Ep-03

زین کسی طاقتور اور عقلمند لڑکے کی تلاش میں تھا۔ وہ بازار میں پھر رہا تھا کہ اچانک  اس کی نظر سامنے پڑی۔ ایک موٹر سائیکل سوار کے پیچھے پولیس لگی ہوئی تھی۔ اصل میں وہ چور تھا۔ وہ جیسے ہی بازار میں داخل ہوا تو وہاں ایک لڑکا جس کا نام غنی تھا اس نے ایک  اینٹ اٹھا لی اور جیسے ہی وہ چور اس کے پاس سے گزرا  تو غنی نے اس کے سر پر اینٹ ماری جس کی وجہ سے وہ نیچے گر گیا اور پولیس نے اسے پکڑ لیا۔ پولیس نے غنی کا شکریہ ادا کیا۔ زین جو کہ یہ دیکھ رہا تھا وہ غنی کے اس کارنامے پر خوش ہوا کیوں کہ اسے اپنا  وارث مل گیا تھا۔ زین نے غنی کو بلایا اور اسے اپنا بیج دے دیا۔ غنی بہت خوش ہوا کہ اسے اس دنیا کی مدد کرنے کا موقع ملا۔ غنی نے اس کا استعمال سیکھا اور گھڑی لے کر گھر چلا گیا۔ اتفاق سے عدیل راحیل شرجیل اورغنی ایک ہی گھر میں رہنے والے ایک دوسرے کے بھائ تھے جن میں سب سے بڑا عدیل تھا اور سب سے چھوٹا غنی تھا۔ پہلے بھی ہمارے ہیروز آپس میں بھائی تھے اور اب بھی  اتفاقا بھائی نکلے۔

اب ادھر 

فائر مین

واٹرمین

وائنڈ مین

اور سٹونر تھے۔۔


ایک مرتبہ سب گھر والے بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہے تھے


 کہ اچانک خبر آئی کہ ایک بلڈنگ میں آگ لگی ہے۔ فائر بریگیڈ آگ بجھانے میں ناکام ہو رہی ہیں. آگ آہستہ آہستہ پھیلی جارہی ہے.

جب چاروں ہیروز نے یہ خبر سنی تو سب سے پہلے راحیل اٹھا باہر آیا اور چپکے سے گھڑی پہن کر ہیرو بنا اور اپنی پوری طاقت سے اڑ کر بلڈنگ میں پہنچا۔ سب لوگ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ہمارے واٹر مین نے پوری بلڈنگ میں تیز بارش کر دی لیکن آگ نہیں بجھی۔ جب باقی تینوں نے دیکھا کہ یہ بھی سپر ہیرو ہے تو وہ حیران رہ گئے۔ عدیل نے سوچا کہ میں تو فائرمین ہوں ۔میں تو  مدد نہیں کر سکتا۔ شرجیل نے سوچا کہ میں تو وائنڈ مین ہوں۔ میں ہوا دونگا تو آگ اور پھیل سکتی ہے۔ غنی نے سوچا کہ اگر وہ بڑے بڑے پتھر آگ کے اوپر پھینکے گا تو آگ بجھ سکتی ہے۔  غنی وہاں سے اٹھا اور چپکے سے بیج پہن کر باہر نکل گیا اور بلڈنگ تک پہنچ گیا۔ راحیل اور غنی ایک دوسرے کو دیکھ کر حیران ہو گئے اور پھر دونوں آگ بجھانے میں مصروف ہوگئے راحیل پانی مارنے میں مصروف تھا غنی نے زمین سے بڑے بڑے پتھر اٹھائے اور آگ پر پھینک دیے۔ آگ جلد ہی بجھ گئی۔


راحیل اور غنی نے سوچا کہ میں اور یہ دو ہیروز ہیں۔ جبکہ شرجیل اور عدیل نے سوچا کہ میں اور یہ دونوں تین ہیروز ہیں۔ وہ چاروں ایک ایک کر کے عثمان، علی، احمد اور زین کے پاس گئے اور ان سے پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ تم سب دوستی کر لو تم دو یا تین نہیں بلکہ چار ہو۔

پھر انہیں سب معلومات کا پتہ چلا۔ کچھ دنوں بعد انہوں نے سنا کہ ایک بینک میں ڈاکو گھس گئے ہیں۔ جب ان چاروں کو پتہ چلا تو چاروں باری باری کرکے وہاں پہنچ گئے۔ سب ایک دوسرے کو دیکھ کر حیران ہو گئے۔ سب سے پہلے غنی نے اشارہ کیا تو بینک کی ایک دیوار نیچے گر گئی پھر شرجیل نے ایک ہوا کا جھونکا مارا تو سارے ڈاکو ہوا میں اڑنے لگے عدیل نے ان پر آگ برسائی پھر راحیل نے ان پر پانی پھینک دیا جس سے آگ بجھ گئی۔ انہوں نے ڈاکوؤں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ پھر غنی نے اشارہ کیا تو دیوار پھر سے کھڑی ہو گئی۔ بعد میں وہ چاروں ایک دوسرے سے ملے۔ عدیل نے پوچھا کون ہو تم سب؟ راحیل نے کہا یہ سوال میں پوچھتا ہوں۔ غنی نے ان دونوں کی آواز پہچان لی۔ غنی بولا آپ  عدیل بھائی ہیں اور آپ راحیل بھائی ہیں نا؟ عدیل بولا: غنی تم؟ پھر ان تینوں نے اپنے اپنے بیجز کے بٹن دبائے اور پھر انسان بن گئے۔ پھر سب شرجیل کی طرف دیکھنے لگے۔ شرجیل ہنسا اور اس نے اپنے بیج کا بٹن دبا دیا۔ چاروں بھائی ایک دوسرے کو دیکھ کر حیران ہو گئے تھے۔ شرجیل ہنستے ہوئے بولا: چار ہیروز چار بھائی ہیں۔۔ سب نے ایک دوسرے کو بتایا کہ انہیں یہ گھڑیاں کیسے ملیں۔ پھر سب گھر آگئے۔ گھر میں سب نے ایک کمرے میں میٹنگ بلائی۔ سب نے اپنی پاورز کے بارے میں بتایا۔ عدیل نے کہا واہ غنی تمہاری طاقت تو بہت زیادہ ہے۔ غنی نے کہا ہم سب ہی برابر ہے۔ آج سب نے مل کر ڈاکوؤں کو پکڑ وایا ہے۔ سب بولے بات تو ٹھیک ہے پھر سب نے تھوڑی دیر تک بات کی اور پھر سو گئے۔ اگلے دن سب ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کسی خبر کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک ایک خبر آ ہی گئی۔ خبر یہ تھی کہ ایک ٹرک پل کے نیچے پھنس گیا ہے۔ اسے نکالنے کے لیے انتظامیہ کوشش کر رہی ہے۔ چاروں ہیروز ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ غنی بولا: یہ میں سنبھال لوں گا۔ عدیل نے کہا جاؤ پھر۔ غنی اٹھا بیج کا بٹن دبایا اور فورا اس جگہ پر پہنچ گیا۔




Post a Comment

0 Comments