دوسری طرف...
الف اور وہ آدمی مسلسل غنی کو سمجھا رہے تھے۔
الف : تم نے خود کہا تھا کہ ہیرو دوسروں کی مدد کے لیے ہوتے ہیں۔
غنی : لیکن لوگوں نے مجھے ہیرو ماننا چھوڑ دیا تھا۔
الف : لوگوں نے غلطی کی تھی۔ تم کیوں وہی غلطی دہرانا چاہتے ہو؟
غنی خاموش ہو گیا۔
الف دوبارہ بولا۔
الف : سوچو اگر آج تم نہ گئے اور لاکھوں لوگ مر گئے تو کیا تم خود کو معاف کر سکو گے؟
یہ الفاظ سیدھے غنی کے دل میں اتر گئے۔
اسے اپنی امی کی بات یاد آگئی۔
"ہیروز روتے نہیں ہیں، لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں۔"
غنی نے آہستہ سے مٹھی بند کی۔
غنی : شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔
الف خوشی سے اچھل پڑا۔
الف : تو تم جاؤ گے؟
غنی : ہاں... لیکن لوگوں کے لیے، تعریف کے لیے نہیں۔
اچانک غنی نے اپنا بیج نکالا۔
اس نے بٹن دبایا۔
چند لمحوں میں اس کا مشہور سوٹ نمودار ہو گیا۔
زمین ہلنے لگی۔
پہاڑ کے اردگرد موجود پتھر فضا میں بلند ہونے لگے۔
الف کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔
الف : میرا ہیرو واپس آ گیا!
غنی مسکرایا۔
غنی : پاکستان کو میری ضرورت ہے۔
یہ کہہ کر وہ بجلی کی رفتار سے آسمان میں بلند ہو گیا۔

0 Comments