کرااااااااااااااااااش!!!
کور میں دراڑ پڑ گئی۔
پھر دوسری۔
پھر تیسری۔
اور پھر...
بووووووووووووووم!!!
کور مکمل طور پر پھٹ گیا۔
ٹائٹن روبوٹ کی آنکھوں کی روشنی بجھ گئی۔
اس کا جسم لرزنے لگا۔
اور پھر وہ آہستہ آہستہ زمین پر گر گیا۔
دھڑااااااااااااااام!!!
پورا میدان ہل گیا۔
چند لمحوں تک خاموشی رہی۔
پھر لوگوں کے نعرے گونجنے لگے۔
"سٹونر زندہ باد!"
"چاروں ہیروز زندہ باد!"
"پاکستان کے محافظ زندہ باد!"
اسی وقت پولیس اور فوج سائنسدان کی خفیہ لیب تک پہنچ گئی۔
سائنسدان بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا۔
لیکن دروازہ کھلا اور سامنے چاروں ہیروز کھڑے تھے۔
سائنسدان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
سائنسدان : ن... نہیں...
غنی : کھیل ختم۔
چند منٹ بعد سائنسدان اور اس کا شاگرد گرفتار ہو چکے تھے۔
اگلے دن...
پورے ملک میں صرف ایک ہی خبر چل رہی تھی۔
"سٹونر نے پاکستان کو بچا لیا۔"
"سٹونر پر لگائی گئی پابندی ختم۔"
"قوم اپنے ہیرو سے معذرت کرتی ہے۔"

0 Comments