ایک درخت اور دو مسافر
ایک زمانے کی بات ہے کہ کسی دور دراز گاؤں کے کنارے ایک بہت بڑا اور پرانا برگد کا درخت تھا۔ وہ درخت صدیوں سے وہیں کھڑا تھا اور اس کی لمبی اور گھنی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اس کے گھنے پتوں کے سایے میں نہ صرف چرند پرند پناہ لیتے تھے بلکہ تپتی دھوپ میں سفر کرنے والے مسافر بھی وہاں بیٹھ کر تھکن مٹایا کرتے تھے۔ درخت کے پاس سے ایک لمبا، ریتلا اور ویران راستہ گزرتا تھا جہاں گرمیوں کے موسم میں سورج آگ برساتاتھا۔
ایک دن سخت گرمی کے موسم میں دو مسافر ایک ساتھ اس لمبے راستے پر سفر کر رہے تھے۔ سورج آسمان کے بالکل درمیان میں چمک رہا تھا اور گرم ہوا کے تھپیڑے ان کے چہروں کو جھلسا رہے تھے۔ ان کے پاس موجود پانی کا مشکیزہ بھی تقریباً خالی ہو چکا تھا اور تھکاوٹ کے مارے ان کے قدم مٹی میں دھنس رہے تھے۔ دور دور تک کسی عمارت یا پناہ گاہ کا نام و نشان نہیں تھا۔
"اگر ہمیں جلد کوئی چھاؤں نہ ملی تو ہم اس بے رحم گرمی میں بے ہوش ہو جائیں گے،" پہلے مسافر نے خشک زبان پر چاٹتے ہوئے کہا، جس کا نام احمد تھا۔
دوسرا مسافر، جس کا نام عثمان تھا، مایوسی سے چاروں طرف دیکھتا ہوا بولا، "ہاں احمد! راستے کا کوئی انتہا نظر نہیں آ رہا اور سورج تو جیسے آج آگ اگلنے کی قسم کھا چکا ہے۔"
وہ دونوں آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے رہے تاآنکہ دور سے انہیں ایک بڑا سایہ دار درخت نظر آیا۔ دونوں کی آنکھوں میں امید کی ایک نئی کرن جاگ اٹھی۔ انہوں نے اپنی آخری طاقت جمع کی اور تیزی سے اس درخت کی طرف بھاگے۔ جب وہ اس کے قریب پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک عظیم الجثہ برگد کا درخت تھا، جس کے پتوں کا گھنا جال زمین پر ٹھنڈک اور سکون کی چادر بچھائے ہوئے تھا۔
دونوں مسافر بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے درخت کی چھاؤں میں جا گرے۔ وہاں کی ٹھنڈی ہوا اور سایہ دیکھ کر ایسا لگا جیسے انہیں ایک نئی زندگی مل گئی ہو۔ انہوں نے اپنا سامان نیچے رکھا، بچا ہوا پانی پیا اور گھاس پر لیٹ کر لمبی سانسیں لیں۔ کچھ ہی دیر میں ان کے جسم سے تھکن دور ہونے لگی اور وہ سکون محسوس کرنے لگے۔
احمد نے آسمان کی طرف دیکھا جہاں اب بھی سورج چمک رہا تھا لیکن درخت کی گھنی شاخوں کی وجہ سے ان تک ایک بھی گرم کرن نہیں پہنچ رہی تھی۔ وہ پیٹھ کے بل لیٹ گیا اور درخت کے اوپری حصے کو گھورنے لگا۔
کچھ دیر آرام کرنے کے بعد، جب احمد کی تھکاوٹ مکمل طور پر دور ہو گئی، تو اس کا ذہن بے کار بیٹھنے کی وجہ سے فضول باتوں کی طرف مائل ہونے لگا۔ اس نے اوپر کی طرف دیکھا اور درخت کی لمبی شاخوں اور پتوں کو غور سے دیکھنے کے بعد بولا:
"عثمان! ذرا اس درخت کو دیکھو۔ یہ کتنا بڑا اور پھیلتا ہوا درخت ہے، لیکن اگر تم غور کرو تو یہ بالکل بیکار ہے۔"
عثمان نے حیرت سے احمد کی طرف دیکھا اور پوچھا، "بیکار؟ تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو؟ اس نے ابھی ہمیں اتنی سخت دھوپ سے بچایا ہے۔"
احمد نے مغرورانہ انداز میں اپنے ہاتھ سر کے نیچے رکھے اور مسکراتے ہوئے کہا، "میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں زیادہ تر درخت انسانوں کو کچھ نہ کچھ دیتے ہیں۔ کوئی عام کا درخت ہوتا ہے جو رسیلے پھل دیتا ہے، کوئی سیب کا درخت ہے، یا پھر کھجور کا۔ بعض درختوں سے ہم قیمتی جڑی بوٹیاں حاصل کرتے ہیں۔ لیکن اس درخت کو دیکھو! اس پر کوئی پھل نہیں لگتا جسے انسان کھا سکیں۔ اس کے پھل چھوٹے اور بے ذائقہ ہوتے ہیں جو صرف پرندے کھاتے ہیں۔ انسان کے لیے اس درخت کی کوئی خاص قیمت نہیں ہے۔ یہ بس زمین کا گھیراؤ کیے کھڑا ہے۔"
عثمان کو احمد کی یہ بات سن کر عجیب لگا۔ اس نے احمد کو سمجھاتے ہوئے کہا، "احمد! ہر چیز کا فائدے کے ترازو میں تولنا ٹھیک نہیں ہوتا۔ پھل نہ سہی، لیکن دیکھو اس کا سایہ کتنا وسیع ہے۔ اس نے اس ویران راستے میں نہ جانے کتنے مسافروں کو تپتی دھوپ سے بچایا ہو گا۔"
احمد نے ہنستے ہوئے جواب دیا، "سایہ تو کوئی کپڑا یا چھت بھی دے سکتی ہے۔ ایک درخت کو پھل دینا چاہیے، ورنہ اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ میری نظر میں یہ درخت بالکل بے مصرف اور بیکار ہے۔"
ابھی احمد کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ اچانک فضا میں ایک گہری اور دھیمی آواز گونجی۔ وہ آواز اتنی پُر وقار اور وزنی تھی کہ دونوں مسافر چونک کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے ادھر ادھر دیکھا لیکن وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ تب انہیں احساس ہوا کہ یہ آواز خود اس برگد کے درخت سے آ رہی تھی۔
درخت کی شاخیں ہلکی سی سرسراہٹ کے ساتھ ہلیں اور آواز آئی:
"اے نادان اور احسان فراموش انسان! تو ذرا دیر پہلے اس شدید گرمی میں جل رہا تھا، تیرا حلق خشک تھا اور تیرے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ تو نے اسی بے مصرف درخت سے پناہ مانگی تھی اور میں نے تجھے اپنے سایے میں جگہ دی۔ میری شاخوں نے سورج کے تیروں کو خود پر جھیلا تاکہ تو آرام کر سکے۔ اور اب، جب تیری تھکن اتر گئی ہے اور تجھے نیا زاد راہ مل گیا ہے، تو میری ہی چھاؤں میں بیٹھ کر مجھے بیکار اور فضول کہہ رہا ہے؟"
احمد درخت کی آواز سن کر خوفزدہ ہو گیا اور اس کا چہرہ فق ہو گیا۔
درخت نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، "انسان کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ وہ ہر چیز کی قدر صرف اپنے ذاتی مفاد اور فائدے سے طے کرتا ہے۔ اگر میں پھل نہیں دیتا، تو کیا میری ٹھنڈی چھاؤں اور میری آکسیجن کا کوئی مول نہیں؟ کیا میں اس ویران راستے میں بے شمار مسافروں کو زندگی اور سکون فراہم نہیں کرتا؟ تو نے میری دی ہوئی نعمت سے فائدہ اٹھایا اور پھر اسی نعمت کی توہین کر رہا ہے۔ یہی تم انسانوں کی ناشکری اور احسان فراموشی کی عادت ہے۔"
احمد درخت کی باتیں سن کر شرمندگی سے پانی پانی ہو گیا۔ اس کے پاس کہنے کے لیے کوئی الفاظ نہیں تھے۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے بغیر سوچے سمجھے کتنی بڑی بات کہہ دی تھی۔ اس نے اپنے اندر کے غرور اور غلط سوچ کو پہچانا۔
احمد نے فوراً اپنے ہاتھ جوڑے اور جھکے ہوئے سر کے ساتھ درخت سے معافی مانگتے ہوئے کہا، "اے عظیم درخت! مجھے معاف کر دو۔ میں واقعی احسان فراموش اور نادان ثابت ہوا۔ میں نے صرف پھل کو فائدے کا معیار سمجھا اور اس عظیم نعمت کو نظر انداز کر دیا جو تم نے مجھے سایے کی صورت میں دی۔ مجھے اپنے ان الفاظ پر بے حد شرمندگی ہے۔"
عثمان نے بھی احمد کی طرف دیکھا اور کہا، "امید ہے آج کے بعد تم کسی بھی نعمت کو کم تر نہیں سمجھو گے۔"
درخت کے پتے آہستہ سے ہلنے لگے، جیسے اس نے احمد کی معافی قبول کر لی ہو۔ ہوائیں دوبارہ ٹھنڈی لگنے لگیں اور فضا میں سکون چھا گیا۔ احمد نے اس دن ایک بہت بڑا سبق سیکھا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ آئندہ کبھی کسی کی افادیت کا فیصلہ ظاہری فائدے سے نہیں کرے گا اور ہمیشہ دوسروں کے احسانات کا شکر گزار رہے گا۔
جب شام ڈھلنے لگی اور دھوپ کا زور کم ہوا، تو دونوں مسافر اٹھے۔ احمد نے جانے سے پہلے احترام کے ساتھ برگد کے درخت کے تنے کو چھوا اور اس کا شکریہ ادا کیا۔ وہ دونوں مسافر دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو گئے، لیکن احمد اب پہلے والا انسان نہیں رہا تھا؛ وہ ایک شکر گزار اور سمجھدار انسان بن چکا تھا۔
اخلاقی سبق (Moral of the Story):
احسان فراموشی سے بچیں: کسی کی دی ہوئی مدد یا نعمت سے فائدہ اٹھا کر بعد میں اس کی تحقیر کرنا سخت احسان فراموشی ہے۔
ہر چیز کی اپنی اہمیت ہوتی ہے: کائنات میں کوئی بھی چیز یا انسان بیکار نہیں بنایا گیا۔ ہر چیز کا اپنا ایک مقصد اور افادیت ہوتی ہے، چاہے وہ فوراً نظر نہ آئے۔
فائدے کی تنگ نظری: فائدے کا مطلب صرف مادّی چیزیں (جیسے پھل یا پیسہ) نہیں ہوتا، بلکہ سکون، تحفظ اور ہمدردی بھی بہت بڑے فائدے ہیں۔

0 Comments