شیخ چلی اور پراسرار اسمارٹ فون: ایک تفریحی اور
سبق آموز داستان
تمہید: گاؤں کا سکون اور شیخ چلی کی عادتیں
گاؤں "روپ نگر" میں یوں تو ہر طرح کے لوگ بستے تھے، لیکن اگر کوئی شخص پورے علاقے میں اپنی انوکھی حکمتِ عملی اور "عظیم الشان منصوبہ بندیوں" کی وجہ سے مشہور تھا، تو وہ تھے ہمارے پیارے "شیخ چلی"۔ شیخ صاحب کا مقصدِ حیات کام کاج سے دور رہ کر ایسے خیالی پلاؤ پکانا تھا جن کی خوشبو سے پورا گاؤں پریشان رہتا تھا۔
شیخ چلی کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہ تھا، لیکن ان کا ذہن ہر وقت نئی نویلی "انقلابی" سکیموں میں الجھا رہتا۔ کبھی وہ ہوائی جہاز خرید کر گاؤں کی چھتوں پر اتارنے کے خواب دیکھتے، تو کبھی مرغیوں کا ایسا فارم بنانے کا سوچتے جس کی مرغیاں انڈوں کی جگہ ڈبل روٹیاں دیا کریں۔
ایک دن گاؤں کے سب سے امیر اور کنجوس زمیندار "چوہدری فتح خان" نے شہر سے ایک انتہائی قیمتی اور جدید "اسمارٹ فون" خریدا۔ چوہدری صاحب کی عادت تھی کہ وہ اپنی ہر نئی چیز کا پورے گاؤں میں رعب جھاڑتے تھے۔ انہوں نے چائے کے ہوٹل پر بیٹھ کر سب کے سامنے موبائل کی تعریفوں کے قلابے ملانا شروع کر دیے:
"اوئے سنو بچو! یہ عام فون نہیں ہے۔ اس میں ایک 'آرٹیفیشل انٹیلی جنس' ہے! تم اس سے جو بھی سوال پوچھو، یہ منٹوں میں سچ سچ جواب دے دیتا ہے۔ اس سے کوئی سچائی چھپائی نہیں جا سکتی!"
یہ سننا تھا کہ شیخ چلی کے کان کھڑے ہو گئے۔ ان کے دل میں ایک دم سے سائنسی اور تفتیشی کیڑا جاگ اٹھا۔ انہوں نے سوچا، "اگر یہ فون ہر سچ بتا سکتا ہے، تو پھر مجھے دن رات محنت کر کے سوچنے کی کیا ضرورت؟ میں اسی سے پوچھوں گا کہ غائب شدہ خزانے کہاں ہیں اور مفت کا امیر کیسے بنا جائے!"
پہلا باب: موبائل کی 'چوری' اور عجیب و غریب تجربات
اس رات جب چوہدری فتح خان اپنے حویلی کے برآمدے میں خرراٹے لے رہے تھے، شیخ چلی چپکے سے حویلی میں داخل ہوئے۔ چوہدری صاحب کا اسمارٹ فون میز پر رکھا چمک رہا تھا۔ شیخ صاحب نے جھپٹ کر فون اٹھایا اور یوں غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
اگلی صبح شیخ چلی گاؤں کے باہر ایک گھنے برآمد کے درخت کے نیچے بیٹھے فون کو گھور رہے تھے۔ انہوں نے فون کا بٹن دبایا تو سکرین پر ایک رنگ برنگی روشنی چمکی۔ شیخ چلی نے گلا صاف کیا، فون کو منہ کے قریب لائے اور انتہائی سنجیدگی سے بولے:
"اے فون کے اندر بیٹھے ہوئے باادب شاطر! مجھے یہ بتاؤ کہ گاؤں کے سب سے بڑے خزانے کا پتہ کیا ہے؟"
فون میں چونکہ 'وائس اسسٹنٹ' آن تھا، اس نے انگریزی لہجے والی اردو میں جواب دیا: "مجھے معاف کیجیے گا، مجھے آپ کا سوال سمجھ نہیں آیا۔ برائے مہربانی دوبارہ کوشش کریں۔"
شیخ چلی نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں۔ انہوں نے سوچا کہ شاید یہ فون کسی خاص انداز کی زبان سمجھتا ہے۔ انہوں نے فون کو تھوڑا ہلایا، جھٹکا دیا اور ذرا غصے میں بولے: "اوے بے وقوف ڈبے! میں شیخ چلی ہوں! سیدھے طریقے سے بتا کہ چوہدری کی بھینس نے جو پچھلے سال سونے کی چین نگل لی تھی، وہ اب کہاں ہے؟"
اس بار وائس اسسٹنٹ نے انٹرنیٹ کی مدد سے خودکار جواب دیا: "سونا خریدنے کے لیے نزدیک ترین جیولری شاپ کا راستہ تلاش کیا جا رہا ہے..."
شیخ چلی خوشی سے اچھل پڑے۔ انہوں نے سوچا کہ فون نے ان کی بات مان لی ہے اور اب وہ انہیں سیدھا خزانے کے پاس لے جا رہا ہے۔
دوسرا باب: گاؤں میں افواہوں کا طوفان اور شیخ چلی کا "استخارہ"
شیخ چلی فون کو ہاتھ میں تھامے گاؤں کی گلیوں میں نکل کھڑے ہوئے۔ جو بھی ان کے سامنے آتا، شیخ چلی اسے فون کی 'کرامات' دکھانے کا دعویٰ کرتے۔
پہلے انہیں لالہ مکھن لال حلوائی ملے۔ لالہ صاحب ویسے تو بہت شریف بنتے تھے لیکن دودھ میں پانی ملانے کی پرانی عادت تھی۔ شیخ چلی نے لالہ کے سامنے فون رکھا اور بولے: "اے غیبی آلے! بتا، لالہ مکھن لال نے آج صبح کتنا لیٹر پانی دودھ میں ملایا ہے؟"
بدقسمتی سے اسی وقت فون پر کیلکولیٹر کی ایپ کھلی ہوئی تھی اور غلطی سے اس کی سکرین پر "50" کا عدد لکھا آ گیا۔ شیخ چلی نے چیخ کر کہا: "دیکھ لو لالہ! پورا پچاس لیٹر پانی! فون نے تمہاری چوری پکڑ لی!"
گاؤں کے لوگ جو پاس کھڑے تھے، قہقہے لگانے لگے۔ لالہ مکھن لال شرمندگی سے پانی پانی ہو گئے اور جلدی سے بولے: "ارے نہیں نہیں شیخ جی! آج تو صرف دس لیٹر ملایا تھا، یہ فون غلط بول رہا ہے!" یہ سن کر لوگ اور زور سے ہنسنے لگے۔ شیخ چلی کو یقین ہو گیا کہ ان کے ہاتھ میں کوئی جادوئی چراغ آ گیا ہے۔
کچھ ہی دیر میں پورے گاؤں میں خبر پھیل گئی کہ شیخ چلی کے پاس ایک ایسا غیبی آلہ ہے جو لوگوں کے تمام راز فاش کر رہا ہے۔ لوگ اپنے اپنے خدشات اور مسائل لے کر شیخ چلی کے پاس جمع ہونے لگے۔
ماسٹر جی آئے اور پوچھنے لگے: "شیخ صاحب! ذرا معلوم کریں کہ میرے سکول کے بچے میری غیر موجودگی میں میری نقلیں کیوں اتارتے ہیں؟"
قصائی بولا: "شیخ جی! ذرا یہ بتائیں کہ میری بکری رات کو جو عجیب آوازیں نکالتی ہے، کیا وہ جنات کی زبان ہے؟"
چوہدری کا نوکر دوڑتا ہوا آیا: "شیخ صاحب! میری گم شدہ مرغی کا پتہ بتا دیں، چوہدری صاحب نے مجھے نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی ہے!"
شیخ چلی نے سب کو باری باری فون کے سامنے کھڑا کیا۔ فون تو انٹرنیٹ سے بے تکے جوابات، موسم کا حال یا انگریزی کے گانے چلاتا، لیکن شیخ چلی اپنے ہی ذہن سے ان کے خیالی ترجمے کر کے لوگوں کو سناتے۔ گاؤں کے لوگ سادہ لوح تھے، وہ شیخ کی باتوں میں آ کر ایک دوسرے پر شک کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے گاؤں میں ایک مضحکہ خیز ہنگامہ برپا ہو گیا۔
تیسرا باب: چوہدری کی آمد اور 'جادوئی اعلیٰ' کا حشر
ابھی یہ تماشا جاری ہی تھا کہ چوہدری فتح خان ڈنڈا لہراتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔ ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا کیونکہ ان کا قیمتی فون غائب تھا۔
"اوئے شیخے کے بچے! میرا فون چوری کر کے یہاں میلہ لگایا ہوا ہے؟ لا ادھر میرا فون!" چوہدری نے دھاڑتے ہوئے کہا۔
شیخ چلی نے فون کو اپنے سینے سے لگایا اور بڑے فخر سے بولے: "خبردار چوہدری صاحب! یہ اب کوئی عام فون نہیں رہا، یہ غیب کا آئینہ بن چکا ہے! اس نے لالہ کی چوری پکڑی، قصائی کی بکری کا راز بتایا اور ابھی یہ آپ کے راز بھی کھولنے والا ہے!"
چوہدری صاحب ذرا گھبرا گئے۔ انہوں نے سوچا کہ کہیں اس فون میں ان کی کوئی پرانی خفیہ فائل یا وائس ریکارڈنگ نہ ہو جو شیخ چلی سب کے سامنے نہ چلا دے۔ چوہدری نے نرمی سے کہا: "اچھا بھائی شیخ! تم بہت سمجھدار ہو۔ لیکن دیکھو یہ نازک چیز ہے، اسے پانی اور دھوپ سے بچانا ہوتا ہے۔ تم اسے مجھے دے دو، میں تمہیں اس کے بدلے دو کلو جلیبیاں اور ایک گرم چادر دیتا ہوں۔"
شیخ چلی کے دل میں لالچ اور غرور کی جنگ شروع ہوئی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر دو کلو جلیبیاں مل رہی ہیں اور ساتھ میں چادر بھی، تو یہ سودا برا نہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی 'عظمت' ثابت کرنے کے لیے ایک آخری تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے فون کا کیمرہ آن کیا اور چوہدری کے چہرے کے سامنے کر کے بولے: "اے سائنسی جادوگر! اگر چوہدری سچا ہے تو ہنس کے دکھا، اور اگر یہ کنجوس ہے تو اس کی تصویر پر شعلے برسا!"
اتفاق ایسا ہوا کہ کیمرے میں 'فلیش لائٹ' (Flashlight) آن ہو گئی اور ایک تیز دھماکے دار روشنی چوہدری کی آنکھوں میں پڑی۔ چوہدری صاحب اچانک تیز روشنی سے ڈر گئے اور انہوں نے بدحواسی میں اپنا ڈنڈا ہوا میں لہرایا۔ ڈنڈا سیدھا شیخ چلی کے ہاتھ پر لگا اور فون ہوا میں اچھلتا ہوا پاس ہی کھڑے قصائی کے پانی سے بھرے ٹپ میں جا گرا!
"چھپاک!" کی آواز آئی اور فون پانی کی گہرائیوں میں غرق ہو گیا۔
چوتھا باب: ہنگامہ، ڈنڈا پریڈ اور اصلیت کا انکشاف
فون کے پانی میں گرتے ہی سکرین سے چند بلبلے نکلے اور پھر مکمل خاموشی چھا گئی۔
شیخ چلی نے چیخ مار کر ٹپ میں ہاتھ ڈالا اور فون باہر نکالا، لیکن فون بے ہوش ہو چکا تھا۔ چوہدری صاحب کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔ چالیس ہزار روپے کا اسمارٹ فون ایک معمولی ٹپ کے پانی میں تباہ ہو چکا تھا۔
"اوئے ظالمو! میرے چالیس ہزار روپے ڈبو دیے!" چوہدری چیخے۔
شیخ چلی نے فون کو کان سے لگایا اور بھولے پن سے بولے: "چوہدری صاحب! لگتا ہے اندر کا جادوگر ڈوب کے مر گیا ہے۔ اب یہ کوئی آواز نہیں نکال رہا!"
اس کے بعد جو ہوا، وہ روپ نگر کی تاریخ کا یادگار واقعہ تھا۔ چوہدری صاحب نے اپنا ڈنڈا سنبھالا اور شیخ چلی کے پیچھے دوڑ لگا دی۔ شیخ چلی آگے آگے اور چوہدری صاحب پیچھے پیچھے۔ پوری پنچایت اور گاؤں کے لوگ ان کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔
شیخ چلی نے اپنی جان بچانے کے لیے گاؤں کے تالاب میں چھلانگ لگا دی اور شام تک پانی میں ہی کھڑے رہے۔ جب گاؤں والے تھک ہار کر گھروں کو لوٹ گئے، تب کہیں جا کر شیخ چلی کپکپاتے ہوئے باہر نکلے۔
نتیجہ اور اخلاقی سبق (Moral of the Story)
اس دن کے بعد شیخ چلی نے کبھی کسی نئی ٹیکنالوجی یا دوسرے کی چیز کو بغیر سمجھے استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔ چوہدری صاحب نے بھی اپنا فون شیشے کے فریم میں جڑوا کر دیوار پر لٹکا دیا تا کہ آئندہ کوئی اسے ہاتھ نہ لگا سکے۔
گاؤں والوں کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ آ گئی کہ:
نیم حکیم خطرۂ جان، نیم ملا خطرۂ ایمان: ادھورے علم اور بغیر سمجھے کسی چیز کا استعمال ہمیشہ نقصان اور رسوائی کا باعث بنتا ہے۔
خیالی پلاؤ اور افواہوں پر یقین نہ کرنا: ٹیکنالوجی انسان کی سہولت کے لیے ہے، لیکن اسے جادو یا غیب کا ذریعہ سمجھنا نادانی ہے۔
دوسروں کی اشیاء سے پرہیز: بلا اجازت کسی کی قیمتی چیز کا استعمال ہمیشہ مصیبت میں ڈالتا ہے

0 Comments