Advertisement

Responsive Advertisement

لالچی لومڑی اور ہنس مکھ گدھا



لالچی لومڑی اور ہنس مکھ گدھا

ایک مزاحیہ اور سبق آموز کہانی

گاؤں "چاند پور" کے کنارے ایک چھوٹا سا جنگل تھا۔ جنگل میں ہر جانور اپنی الگ عادت کی وجہ سے مشہور تھا۔ کوئی اپنی طاقت پر ناز کرتا تھا، کوئی اپنی رفتار پر، اور کوئی اپنی عقل پر۔

ان سب میں ایک لومڑی تھی جس کا نام لالی تھا۔ لالی خود کو پورے جنگل کی سب سے زیادہ ذہین مخلوق سمجھتی تھی۔ وہ ہر وقت دوسروں کو بے وقوف بنانے کے منصوبے بناتی رہتی۔ اگر کسی کے پاس اچھا کھانا ہوتا تو وہ اسے چالاکی سے ہتھیا لیتی، اور پھر فخر سے کہتی:

"عقل ہو تو میری جیسی، ورنہ سب فضول!"

دوسری طرف ایک گدھا رہتا تھا جس کا نام بھولا تھا۔ لیکن نام کے برعکس وہ حقیقت میں کافی سمجھدار تھا۔ ہاں، وہ ہر وقت ہنستا رہتا تھا، اسی لیے سب اسے "ہنس مکھ بھولا" کہتے تھے۔

بھولا کی ایک عادت تھی کہ وہ مشکل سے مشکل وقت میں بھی مسکرا دیتا تھا۔ اگر بارش آ جائے تو کہتا:

"چلو، آج نہانے کے پیسے بچ گئے!"

اگر دھوپ بہت تیز ہو تو کہتا:

"قدرت نے مفت کا ہیٹر چلا دیا ہے!"

جنگل کے جانور اس کی باتیں سن کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔


ایک دن لالی نے سوچا:

"یہ بھولا ہر وقت سب کو ہنساتا رہتا ہے۔ اگر میں اسے بے وقوف بنا دوں تو میری شہرت اور بڑھ جائے گی۔"

وہ بھولا کے پاس پہنچی اور بڑے پیار سے بولی:

"بھولا بھائی! آپ کی ذہانت کے تو سب قائل ہیں۔"

بھولا نے حیرت سے کہا:

"واقعی؟ آج پہلی بار کسی نے میری تعریف کی ہے، ورنہ سب مجھے صرف گانے سے منع کرتے ہیں۔"

لالی نے پوچھا:

"کیوں؟"

بھولا نے معصومیت سے جواب دیا:

"جب بھی میں گاتا ہوں، پرندے گھونسلے چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔"

یہ سن کر لالی بھی ہنسی روک نہ سکی۔

اس نے کہا:

"میں تمہیں ایک خزانے کا پتا بتاتی ہوں، لیکن شرط یہ ہے کہ کسی کو نہ بتانا۔"

بھولا نے فوراً کہا:

"میں تو اپنے راز بھی بھول جاتا ہوں، دوسروں کے راز کیسے یاد رکھوں گا؟"


لالی اسے جنگل کے ایک پرانے درخت کے پاس لے گئی۔ وہاں پہلے ہی ایک گہرا گڑھا تھا۔

اس نے سنجیدگی سے کہا:

"اس گڑھے میں سونے کے سکے بھرے ہوئے ہیں۔ تم بس کود جاؤ، سارا خزانہ تمہارا۔"

بھولا نے گڑھے کی طرف دیکھا، پھر لالی کی طرف، پھر دوبارہ گڑھے کی طرف۔

وہ بولا:

"خزانہ اگر اندر ہے تو تم خود کیوں نہیں کودتیں؟"

لالی ایک لمحے کو خاموش ہو گئی، پھر بولی:

"میں... میں تو پہلے ہی بہت امیر ہوں۔"

بھولا مسکرایا اور کہنے لگا:

"امیر لوگ تو اور زیادہ امیر بننا چاہتے ہیں۔"

یہ سن کر اردگرد چھپے ہوئے خرگوش اور بندر ہنسنے لگے۔

لالی نے شرمندگی چھپاتے ہوئے کہا:

"اصل میں... میری کمر میں درد ہے۔"

بھولا فوراً بولا:

"تو پھر خزانہ نکالنے کے بعد تمہاری کمر کا علاج بھی کرا دوں گا!"

اب تو پورا جنگل قہقہوں سے گونج اٹھا۔


لالی نے آخری چال چلنے کا فیصلہ کیا۔

اس نے کہا:

"اچھا، پہلے میں ایک پتھر پھینکتی ہوں۔ اگر سونے کی آواز آئی تو سمجھنا خزانہ موجود ہے۔"

اس نے ایک پتھر گڑھے میں پھینکا۔

"ٹھک!"

آواز آئی۔

لالی خوشی سے بولی:

"دیکھا؟ یہی سونے کی آواز ہے۔"

بھولا نے فوراً دوسرا بڑا پتھر اٹھایا اور گڑھے میں پھینک دیا۔

"دھڑام!"

وہ بولا:

"یہ تو لگتا ہے ہیرے بھی ہیں!"

بندر زور زور سے ہنسنے لگے۔

ایک بوڑھا الو درخت پر بیٹھا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اس نے کہا:

"جس شخص کو ہر آواز میں خزانہ سنائی دے، وہ حقیقت نہیں بلکہ اپنی لالچ سن رہا ہوتا ہے۔"

یہ سن کر جنگل میں خاموشی چھا گئی۔


اسی دوران اچانک لالی کا پاؤں پھسلا اور وہ خود اسی گڑھے میں جا گری۔

"بچاؤ! بچاؤ!"

وہ زور زور سے چیخنے لگی۔

بھولا نے فوراً ایک مضبوط بیل کی رسی بنائی اور دوسرے جانوروں کی مدد سے اسے باہر نکال لیا۔

لالی شرمندہ تھی۔

اس نے دھیمی آواز میں کہا:

"میں نے تمہیں دھوکہ دینے کی کوشش کی، لیکن تم نے میری جان بچا لی۔"

بھولا مسکرایا اور بولا:

"اگر میں بھی تم جیسا بن جاتا تو آج تم گڑھے میں ہی رہ جاتیں۔"

جنگل کے سب جانور خاموشی سے اس کی بات سنتے رہے۔

انہیں پہلی بار احساس ہوا کہ اصل عقل دوسروں کو گرانے میں نہیں، بلکہ گرے ہوئے کو اٹھانے میں ہے۔ 

 مزید کہانیوں کے لیے یہاں کلک کریں:

لالی جب گڑھے سے باہر نکلی تو اس کا سر جھکا ہوا تھا۔ وہ پہلی بار اپنے کیے پر شرمندہ تھی۔ جنگل کے جانور حیران تھے کہ جو لومڑی ہمیشہ دوسروں کو دھوکہ دیتی تھی، آج خود اپنی چال میں پھنس گئی تھی۔

خرگوش نے ہنستے ہوئے کہا،
"لالی بہن! خزانہ ملا یا صرف مٹی؟"

بندر فوراً بولا،
"میرا خیال ہے خزانے نے کہا ہوگا، 'پہلے سچ بولنا سیکھو، پھر واپس آنا!'"

سب جانور زور زور سے ہنسنے لگے۔

لالی بھی ہلکا سا مسکرائی، مگر اس کی مسکراہٹ میں شرمندگی شامل تھی۔

بھولا نے کہا،
"ہنسنا اچھی بات ہے، مگر کسی کی بے عزتی نہیں کرنی چاہیے۔ غلطی ہر ایک سے ہو سکتی ہے۔"

یہ سن کر سب خاموش ہو گئے۔


اگلے دن جنگل میں ایک نئی مصیبت آ گئی۔

ایک تاجر اپنی بیل گاڑی میں آم، خربوزے، تربوز اور مختلف پھل لے کر گاؤں جا رہا تھا۔ راستے میں گاڑی کا ایک پہیہ کیچڑ میں پھنس گیا۔

تاجر پریشان ہو کر بولا،
"ہائے! اگر آج بازار نہ پہنچا تو سارا پھل خراب ہو جائے گا۔"

درخت پر بیٹھے بندر نے یہ منظر دیکھا اور فوراً جنگل کے جانوروں کو اطلاع دی۔

سب جمع ہو گئے، مگر کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ گاڑی کیسے نکالی جائے۔

ایک ریچھ بولا،
"میں زور لگا دیتا ہوں۔"

اس نے پوری طاقت لگائی، مگر گاڑی اپنی جگہ سے نہ ہلی۔

ہاتھی نے بھی کوشش کی، لیکن کیچڑ بہت گہرا تھا۔

تب بھولا آگے بڑھا۔

اس نے کہا،
"صرف طاقت سے کام نہیں چلے گا، تھوڑی عقل بھی لگانی ہوگی۔"

سب حیران ہو گئے۔

بھولا نے خشک لکڑیاں، پتھر اور موٹی شاخیں منگوائیں۔ اس نے پہیے کے آگے لکڑیاں رکھیں تاکہ پہیہ مضبوط سہارا لے سکے۔

پھر سب جانوروں نے ایک ساتھ زور لگایا۔

"ایک... دو... تین!"

گاڑی دھیرے دھیرے کیچڑ سے باہر نکل آئی۔

تاجر خوشی سے اچھل پڑا۔

"واہ! تم سب نے میرا بہت بڑا نقصان ہونے سے بچا لیا۔"

اس نے انعام کے طور پر سب کو پھل پیش کیے۔

بندر نے ایک ساتھ تین آم اٹھا لیے۔

خرگوش نے فوراً کہا،
"ارے بھائی! کچھ دوسروں کے لیے بھی چھوڑ دو۔"

بندر نے جواب دیا،
"میں تو صرف معیار چیک کر رہا ہوں۔"

اسی دوران ایک آم اس کے ہاتھ سے پھسل کر سیدھا اس کے سر پر لگا۔

پورا جنگل قہقہوں سے گونج اٹھا۔


چند دن بعد جنگل میں اعلان ہوا کہ اس سال "ذہانت اور خوش اخلاقی کا مقابلہ" ہوگا۔

شرط یہ تھی کہ جو جانور سب سے اچھا فیصلہ کرے گا، وہ فاتح قرار پائے گا۔

پہلا سوال آیا۔

اگر دو جانور ایک ہی چیز پر جھگڑ رہے ہوں تو کیا کرنا چاہیے؟

بھیڑیا بولا،
"جو طاقتور ہو، چیز اسی کی۔"

شیر نے کہا،
"جو جنگل کا بادشاہ ہو، فیصلہ وہ کرے۔"

لومڑی نے کہا،
"جو زیادہ چالاک ہو، وہ جیت جائے۔"

آخر میں بھولا کی باری آئی۔

وہ بولا،
"پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اصل حق دار کون ہے۔ اگر دونوں برابر ہوں تو چیز بانٹ دینی چاہیے، اور اگر بانٹنا ممکن نہ ہو تو باری باری استعمال کرنی چاہیے۔"

بوڑھے الو نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
"یہی انصاف ہے۔"


دوسرا سوال آیا۔

اگر کسی نے تمہارے ساتھ برائی کی ہو تو کیا بدلہ لینا چاہیے؟

ریچھ نے کہا،
"ضرور!"

بندر بولا،
"پہلے مذاق اڑاؤ، پھر بدلہ لو۔"

سب ہنس پڑے۔

بھولا نے کہا،
"بدلہ لینا آسان ہے، مگر معاف کرنا مشکل۔ جو معاف کر دیتا ہے، وہ دل سے مضبوط ہوتا ہے۔"

یہ سن کر لالی کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔

اسے اپنا کل کا واقعہ یاد آ گیا۔


مقابلہ ختم ہوا تو بوڑھے الو نے اعلان کیا،

"اس سال کا سب سے سمجھدار اور خوش اخلاق جانور... بھولا ہے!"

پورا جنگل تالیوں اور خوشی کے نعروں سے گونج اٹھا۔

بندر نے کہا،
"بھولا! تقریر کرو!"

بھولا ہنستے ہوئے بولا،
"تقریر بعد میں کروں گا، پہلے یہ بتاؤ انعام میں کچھ کھانے کو بھی ملے گا یا صرف تالیاں ہی ہیں؟"

سب دوبارہ ہنس پڑے۔

بادشاہ شیر نے انعام کے طور پر شہد، تازہ گھاس، میٹھے پھل اور ایک خوبصورت پھولوں کا ہار پیش کیا۔

لیکن بھولا نے وہ تمام تحفے جنگل کے غریب اور کمزور جانوروں میں تقسیم کر دیے۔

خرگوش نے حیرت سے پوچھا،
"تم نے اپنے لیے کچھ کیوں نہیں رکھا؟"

بھولا مسکرا کر بولا،
"خوشی وہ خزانہ ہے جو بانٹنے سے بڑھتا ہے، چھپانے سے نہیں۔"

لالی نے آگے بڑھ کر سب کے سامنے کہا،
"آج میں نے سمجھ لیا ہے کہ چالاکی وقتی فائدہ دیتی ہے، مگر اچھا کردار ہمیشہ عزت دلاتا ہے۔ آج سے میں کسی کو دھوکہ نہیں دوں گی۔"

جنگل کے سب جانور خوش ہو گئے۔

اس دن کے بعد لالی واقعی بدل گئی۔ وہ دوسروں کی مدد کرنے لگی، اور اگر کبھی کسی سے غلطی ہو جاتی تو فوراً معافی مانگ لیتی۔

وقت گزرتا گیا، مگر جنگل کے جانور آج بھی بچوں کو ایک بات ضرور سکھاتے ہیں:

"ہوشیاری وہ نہیں جو دوسروں کو گرا دے، بلکہ وہ ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلے۔"

سبق (Moral)

  • لالچ انسان کو نقصان پہنچاتی ہے۔

  • اچھا اخلاق ہر دل جیت لیتا ہے۔

  • معاف کرنا بدلہ لینے سے زیادہ بہادری ہے۔

  • خوشی اور محبت بانٹنے سے بڑھتی ہے۔

  • اصل ذہانت دوسروں کی مدد کرنے اور انصاف سے کام لینے میں ہے۔

اختتام

Post a Comment

0 Comments