اردو کہانی: امانت کی قیمت

 

امانت کی قیمت

گاؤں نورپور کے کنارے ایک چھوٹا سا گھر تھا جہاں بارہ سالہ حمزہ اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔ حمزہ ایک محنتی اور سمجھدار لڑکا تھا، لیکن اس کے دل میں ایک خواہش ہمیشہ رہتی تھی کہ کاش ان کے گھر کے حالات کچھ بہتر ہو جائیں۔ اس کے والد ایک معمولی کسان تھے اور سارا سال محنت کرنے کے باوجود گھر کے اخراجات بمشکل پورے ہوتے تھے۔

ایک دن صبح سویرے حمزہ اپنے والد کے ساتھ کھیتوں کی طرف جا رہا تھا۔ راستے میں اسے ایک پرانا چمڑے کا بٹوا نظر آیا۔ اس نے جھک کر بٹوا اٹھایا اور کھولا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ بٹوے میں کافی رقم موجود تھی اور ساتھ ہی کچھ اہم کاغذات بھی تھے۔

حمزہ نے خوشی سے کہا، "ابا! اگر یہ پیسے ہمارے پاس رہ جائیں تو ہم بہت سی ضروری چیزیں خرید سکتے ہیں۔"

اس کے والد نے بٹوا غور سے دیکھا اور نرم لہجے میں بولے، "بیٹا، یہ پیسے ہمارے نہیں ہیں۔ جو چیز ہماری نہیں، اسے اپنے پاس رکھنا امانت میں خیانت ہے۔"

حمزہ خاموش ہو گیا، لیکن اس کے دل میں ایک کشمکش جاری تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ان کے گھر کو واقعی پیسوں کی ضرورت تھی۔

والد نے مشورہ دیا کہ پہلے بٹوے کے مالک کو تلاش کیا جائے۔ دونوں واپس گاؤں آئے اور لوگوں سے پوچھ گچھ شروع کی۔ لیکن پورے دن میں کسی کو بھی بٹوے کے بارے میں معلومات نہ مل سکیں۔

اگلے دن گاؤں کی مسجد کے باہر ایک اعلان لگایا گیا کہ جس کسی کا بٹوا گم ہوا ہو وہ نشانی بتا کر وصول کر سکتا ہے۔ دو دن گزر گئے مگر کوئی نہ آیا۔

تیسرے دن ایک بوڑھا شخص مسجد کے امام صاحب کے پاس پہنچا۔ اس کے چہرے پر پریشانی صاف نظر آ رہی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کا بٹوا چند دن پہلے کہیں گم ہو گیا تھا۔

جب اس سے بٹوے کی نشانیاں پوچھی گئیں تو اس نے تمام تفصیلات درست بتا دیں۔ حمزہ اور اس کے والد نے بٹوا اس کے حوالے کر دیا۔

بوڑھے شخص کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ اس نے بتایا کہ وہ رقم اس کی زندگی بھر کی جمع پونجی تھی جس سے وہ اپنی بیمار بیوی کا علاج کروانا چاہتا تھا۔ اگر بٹوا نہ ملتا تو اس کے لیے بہت بڑی مشکل پیدا ہو جاتی۔

اس نے خوش ہو کر کچھ رقم بطور انعام حمزہ کو دینی چاہی، لیکن حمزہ کے والد نے انکار کر دیا۔

بوڑھے شخص نے کہا، "آپ نے میری بہت بڑی مدد کی ہے۔ کم از کم یہ تحفہ قبول کر لیجیے۔"

والد نے مسکرا کر جواب دیا، "ہم نے صرف اپنا فرض ادا کیا ہے۔"

یہ بات سن کر حمزہ کے دل میں عجیب سی خوشی پیدا ہوئی۔ اسے احساس ہوا کہ سچائی اور امانت داری کی قیمت پیسوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

کچھ ہفتے بعد گاؤں میں ایک نئی زرعی کمپنی نے کسانوں کی مدد کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا۔ کمپنی کے نمائندے مختلف گھروں میں جا کر ایسے لوگوں کی تلاش کر رہے تھے جو محنتی اور دیانت دار ہوں۔

اتفاق سے وہی بوڑھا شخص اس کمپنی کے ایک اعلیٰ افسر کا قریبی دوست نکلا۔ اس نے حمزہ کے والد کی امانت داری کا ذکر کیا اور ان کی سفارش کی۔

جلد ہی حمزہ کے والد کو بہتر بیج، جدید زرعی آلات اور مالی معاونت فراہم کی گئی۔ اس سال ان کی فصل پہلے سے کہیں زیادہ اچھی ہوئی۔ گھر کے حالات بہتر ہونے لگے اور حمزہ کی تعلیم بھی آسانی سے جاری رہ سکی۔

ایک شام حمزہ اپنے والد کے ساتھ گھر کے صحن میں بیٹھا تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور آسمان پر سورج غروب ہو رہا تھا۔

حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا، "ابا، اگر ہم وہ بٹوا اپنے پاس رکھ لیتے تو شاید چند دن کی ضرورت پوری ہو جاتی، لیکن آج سمجھ آیا ہے کہ سچائی کا فائدہ بہت بڑا ہوتا ہے۔"

والد نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، "بیٹا، دنیا میں دولت اہم ضرور ہے، لیکن عزت، اعتماد اور نیک نامی اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔ جو شخص امانت داری اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔"

اس دن کے بعد حمزہ نے زندگی بھر سچائی اور امانت داری کو اپنا اصول بنا لیا۔ وقت گزرتا گیا اور وہ ایک کامیاب انسان بن گیا، لیکن اسے ہمیشہ وہ پرانا بٹوا اور اپنے والد کی نصیحت یاد رہی۔

سبق: امانت داری اور سچائی کبھی ضائع نہیں جاتیں۔ وقتی فائدہ چھوڑ کر درست راستہ اختیار کرنے والا آخرکار عزت، اعتماد اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔





Post a Comment

0 Comments