پاگل سائنسدان کی گرفتاری کے بعد سب کچھ معمول پر آ گیا تھا۔ سٹونر پر سے پابندی بھی ختم ہو چکی تھی اور چاروں بھائی ایک بار پھر عوام کے ہیرو بن گئے تھے۔
کئی دن گزر گئے۔
ایک رات غنی اپنے کمرے میں سو رہا تھا۔
اچانک اسے ایک عجیب خواب آیا۔
اس نے دیکھا کہ وہ ایک سفید روشنی سے بھرے ہوئے میدان میں کھڑا ہے۔ چاروں طرف خاموشی تھی۔ پھر دھیرے دھیرے ایک شخص اس کے سامنے ظاہر ہوا۔
غنی حیران رہ گیا۔
وہ زین تھا۔
وہی زین جس نے اسے اپنا بیج دیا تھا۔
غنی : زین انکل! آپ؟
زین مسکرایا۔
زین : غنی، تم نے خود کو ایک سچا ہیرو ثابت کر دیا ہے۔
غنی : آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟
زین : تمہیں ایک راز بتانے۔
غنی : کیسا راز؟
زین : تمہارے بیج کا اصل راز۔
غنی چونک گیا۔
زین : جب میں نے تمہیں یہ بیج دیا تھا تو میں نے صرف اس کی پہلی طاقت کے بارے میں بتایا تھا۔ لیکن ایک اور راز بھی تھا جو صرف منتخب وارثوں کو معلوم ہوتا ہے۔
غنی : کون سا راز؟
زین : اپنے بیج کا بٹن مسلسل تیس سیکنڈ تک دبانا۔
غنی : پھر کیا ہوگا؟
زین مسکرایا لیکن جواب نہ دیا۔
زین : وقت آ گیا ہے کہ تم خود دیکھو۔
اچانک روشنی تیز ہونے لگی۔
زین کی آواز گونجی۔
"یاد رکھنا... ہر طاقت کے پیچھے ایک اور طاقت چھپی ہوتی ہے..."
اور پھر خواب ختم ہو گیا۔
غنی اچانک اٹھ بیٹھا۔
اس کی سانس تیز چل رہی تھی۔
غنی : یہ کیسا خواب تھا؟
اس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
رات کے تین بج رہے تھے۔
کچھ لمحے سوچنے کے بعد اس نے اپنا بیج اٹھا لیا۔
غنی : چلو دیکھتے ہیں۔
اس نے بٹن دبا دیا۔
ایک سیکنڈ...
پانچ سیکنڈ...
دس سیکنڈ...
بیس سیکنڈ...
پچیس سیکنڈ...
تیس سیکنڈ...
اچانک بیج کانپنے لگا۔
غنی : یہ کیا؟
بیج کے اندر سے سبز رنگ کی روشنی نکلنے لگی۔
پھر ایک چھوٹا سا خفیہ خانہ کھلا۔
اور اس کے اندر سے ایک دوسرا سبز بیج باہر آ گیا۔
اس نئے بیج کے درمیان ایک عجیب سا نشان بنا ہوا تھا جو غنی نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
غنی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
غنی : ایک... دوسرا بیج؟!
کمرے میں سبز روشنی پھیل گئی۔
غنی حیران ہو کر اسے دیکھتا رہ گیا۔
دوسری طرف...
بہت دور...
زمین سے کروڑوں میل دور...
خلاء کے اندھیرے میں ایک دیو ہیکل خلائی جہاز سفر کر رہا تھا۔
جہاز کے اندر عجیب و غریب مخلوقات موجود تھیں۔
ان میں سے ایک ایلین بھاگتا ہوا اپنے سردار کے پاس پہنچا۔
ایلین : باس! باس!
باس ایلین : کیا ہوا؟
ایلین : ایٹرنم کور بیج ایکٹیویٹ ہو گیا ہے!
باس اپنی کرسی سے فوراً کھڑا ہو گیا۔
باس : کیا کہا تم نے؟
ایلین : جی باس! ہمیں اس کی لوکیشن مل گئی ہے۔
باس : کہاں ہے؟
ایلین : ایک سیارے پر... جسے وہاں کے لوگ "Earth" کہتے ہیں۔
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر باس کے چہرے پر ایک خطرناک مسکراہٹ آ گئی۔
باس : آخرکار...
ہزاروں سال بعد...
ہم نے اسے ڈھونڈ ہی لیا۔
ایلین : کیا حکم ہے باس؟
باس نے خلا میں نظر آنے والی زمین کی تصویر کی طرف دیکھا۔
باس : زمین کی طرف رخ کرو۔
ایلین : جی باس!
باس : ایٹرنم کور بیجز صرف میرے ہیں...
جہاز کے انجن روشن ہو گئے۔
اور وہ خوفناک خلائی جہاز زمین کی طرف بڑھنے لگا...
غنی ابھی تک اپنے ہاتھ میں موجود سبز بیج کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔
اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اس چھوٹے سے بیج نے پوری کائنات میں ایک نیا خطرہ جگا دیا ہے...


0 Comments