چاروں بھائی دوبارہ میدان میں آ گئے۔
ٹائٹن روبوٹ ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔
ہر قدم پر زمین کانپ رہی تھی۔
عدیل نے اپنے ہاتھوں میں آگ جمع کرنا شروع کر دی۔
راحیل نے پانی کی طاقت اکٹھی کی۔
شرجیل نے زبردست ہوائیں پیدا کیں۔
غنی نے زمین سے بے شمار پتھر اور مٹی اوپر اٹھا لی۔
چاروں نے ایک ساتھ اپنی طاقتیں ملائیں۔
آگ، پانی، ہوا اور زمین ایک روشن گیند کی شکل اختیار کرنے لگے۔
وہ گیند ہر سیکنڈ کے ساتھ بڑی ہوتی جا رہی تھی۔
آسمان تک روشنی پھیل گئی۔
پورے پاکستان میں لوگ حیران ہو کر آسمان کی طرف دیکھنے لگے۔
سائنسدان کی ہنسی غائب ہو گئی۔
سائنسدان : یہ کیا کر رہے ہیں؟
شاگرد : ماسٹر... مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔
سائنسدان : خاموش رہو!
چند لمحوں بعد...
غنی چلایا۔
"اب!!!"
چاروں نے اپنی ساری طاقت ایک ساتھ ٹائٹن روبوٹ پر چھوڑ دی۔
ایک زبردست روشنی پیدا ہوئی۔
بووووووووووووووم!!!
دھماکے کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی۔
کچھ لمحوں تک ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا۔
جب دھواں چھٹا تو...
ٹائٹن روبوٹ کا آدھا جسم تباہ ہو چکا تھا۔
لیکن وہ اب بھی کھڑا تھا۔
عدیل : کیا؟!
راحیل : یہ ابھی تک زندہ ہے؟
شرجیل : اب کیا کریں؟

0 Comments